Fawad Shafiq
@fadiiisays.bsky.social
📤 953
📥 1466
📝 1506
میری زمین میرا آخری حوالہ ہے! 🇵🇰
pinned post!
لگدا اے بھئ اینوں قسمت کہندے نے جہڑی میرے نال کھڑی اے ماڑی جئ تجمل کلیم
loading . . .
8 months ago
1
9
3
ہمارا مسئلہ سہولتیں نہیں ہیں ، خواب ہیں!
about 3 hours ago
0
1
0
کس محبت سے عدم ، ہنس کہ وہ کہتے ہیں مجھے چاہنے والے تو خود دار ہُوا کرتے ہیں عبدالحمید عدم
about 11 hours ago
0
2
1
کبھی لوٹ آئیں تو پوچھنا نہیں دیکھنا انہیں غور سے جنہیں راستے میں خبر ہوئی کہ یہ راستہ کوئی اور ہے سلیم کوثر
about 12 hours ago
0
0
0
اِس عمرِ رائیگاں میں ہے یہ بھی بہت مجھے کچھ روز تیری سوچ کا محور رہا ہوں میں منیب احمد
1 day ago
1
1
0
فقط یہ بڑھتا ہوا دستِ دوستی ہی نہیں ہمیں قبول ہے وہ بھی جو آستین میں ہے عرفان صدیقی
1 day ago
0
1
0
ایک مرجھائے ہوئے پھول پہ تتلی دیکھی جانے کیا سوچ کے آنکھوں سے سمندر نکلے میثم علی آغا
1 day ago
0
0
0
بچھڑے ہوئے تو ایک زمانہ ہوا، مگر وہ شخص میری آنکھ سے اوجھل نہیں ہوا ساقی امروہوی
1 day ago
0
0
0
وہ رنج تھا کہ رنج نہ کرنا محال تھا آخر میں ایک شام بہت رو کے خوش ہوا ذولفقار عادل
2 days ago
0
1
0
ﮨﻢ ﭘﺮﻧﺪﮮ ﮨﯿﮟ ﻧﮧ ﻣﻘﺘﻮﻝ ﮨﻮﺍﺋﯿﮟ، ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﺁ ﮐﺴﯽ ﺭﻭﺯ ﮐﺴﯽ ﺩُﮐﮫ ﭘﮧ ﺍﮐﭩﮭﮯ ﺭﻭﺋﯿں فرحت عباس شاہ
2 days ago
0
1
0
یہ کِس نے سہمی ہوئی فضا میں ہمیں پکارا یہ کِس نے آواز دی، کہ آؤ! اُداس لوگو محسن نقوی
2 days ago
1
1
0
ایک مدت سے پکارا نہیں تم نے مجھ کو ایسا لگتا ہے مرا نام نہیں ہے کوئی لیاقت علی عاصم
2 days ago
0
1
0
میں کچھ دن سے اچانک پھر اکیلا پڑ گیا ہوں نئے موسم میں اک وحشت پرانی کاٹتی ہے لیاقت علی عاصم
3 days ago
0
1
0
یوں تو وہ شکل کھو گئی گردشِ ماہ و سال میں پھول ہے اک کِھلا ہوا حاشیہ خیال میں خورشید رضوی
3 days ago
0
1
0
وہ سلیقے سے ہوا مجھ سے گریزاں ورنہ لوگ تو صاف محبت سے مکرتے دیکھے شوکت فہمی
3 days ago
0
1
0
لوگ کہتے تھے وہ شخص نہیں اچھا لیکن دھوپ چھاؤں سا وہی مجھ کو بھلا لگتا تھا سمیع اللہ
3 days ago
0
1
0
سب کہے دیتی ہے اشکوں کی روانی ، افسوس راز دل میں ہے کہ چھلنی میں ہے پانی ،افسوس خورشید رضوی
4 days ago
1
4
1
تُو بھی ہو میں بھی ہوں اک جگہ پہ اور وقت بھی ہو اتنی گنجائشیں رکھتی نہیں دنیا میرے دوست ادریس بابر
4 days ago
0
2
0
کوئی جو پوچھے کبھی محبت ہوئی تو ہو گی جواب دینے کو اک کہانی گھڑی ہوئی ہے احمد خلیل
4 days ago
0
5
1
آشنا ہاتھ ہی اکثر مری جانب لپکے میرے سینے میں سدا اپنا ہی خنجر اترا احمد فراز
4 days ago
0
1
0
ہم نے کب چاہا کہ وہ شخص ہمارا ہو جائے اتنا دِکھ جائے کہ آنکھوں کا گُزارہ ہو جائے یاسر خان انعام
5 days ago
0
3
0
تُو بھی ایسا ہی دِل آرام شجر ہے جِس نے مُجھ کو اِس دَشتِ قیامت سے بچائے رکھا احمد فرازؔ
5 days ago
0
1
0
گم ہے انہی گلیوں میں کوئی ہم سفر اپنا یہ جھانکنا یُوں ہی تو نہیں در بدر اپنا (احمد مشتاق)
5 days ago
0
1
0
کرا تو لوں گا علاقہ خالی میں لڑ جھگڑ کر مگر جو اس نے دِلوں پہ قبضے کیے ہوئے ہیں ضیاء مذکور
5 days ago
0
3
1
چہرے سے جھاڑ پچھلے برس کی کدورتیں دیوار سے پرانا کلینڈر اتار دے! ظفر اقبال
6 days ago
0
2
0
تجھ کو کیا علم تجھے ہارنے والے کچھ لوگ کس قدر سخت ندامت سے تجھے دیکھتے ہیں پروین شاکر
6 days ago
0
3
0
تجھے خبر ہے ؟ تو بالکل دعاؤں جیسا ہے دعا بھی وہ جو مصیبت کے وقت کام آئے کومل جوئیہ
6 days ago
0
2
0
اب تم ہمارے ہاتھ کو آئے ہو تھامنے اب تو ہمارے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں بچا ساجد رحیم
6 days ago
0
1
0
آنکھوں میں زندگی کی جھلک کو بچا کے رکھ مرنا ہی ہے تو میری محبت میں جان دے عاجز کمال رانا
7 days ago
0
2
0
پچھلا برس عدیم بڑا ہی طویل تھا میں بوڑھا ہو گیا ہوں اسی ایک سال میں عدیم ہاشمی
7 days ago
0
1
0
کبھی میں پوچھتا رہتا تھا، کون ھے در پر؟ اور اب میں دوڑ کے جاتا ھوں ، اور دیکھتا ھوں ممتاز گورمانی
8 days ago
0
1
0
کیا اُس کی تلافی ہو کہ جو شخص ہمیشہ یکطرفہ محبت میں بھی ناکام رہا ہو جہانزیب ساحر
9 days ago
0
0
0
سبھی کی آنکھوں میں رکھے گئے دئیے لیکن ہماری آنکھ کے حصے میں رتجگے آئے احمد اویؔس
9 days ago
0
1
0
ذرا سی عمر میں جا کر بڑوں میں بیٹھ گئے اور اس کے بعد کئی ڈر دِلوں میں بیٹھ گئے علی قائم
9 days ago
0
1
0
میں نے اِک عمر سے بٹوے میں سنبھالی ہوئی ہے وہی تصویر جو اِک پل نہیں دیکھی جاتی جواد شیخ
10 days ago
0
1
0
کچھ دوست بھی مصروف زیادہ ہوئے اور کچھ ہم دور ہیں افسردگئ دل کے سبب سے ثمینہ راجہ
10 days ago
0
1
0
آدمی سر پکڑ کے بیٹھا ہے مسئلہ جڑ پکڑ کے بیٹھ گیا عمار اقبال
11 days ago
0
1
0
کیا قیامت ہے منیر اب یاد بھی آتے نہیں وہ پرانے آشنا جن سے ہمیں اُلفت بھی تھی منیر نیازی
11 days ago
0
1
0
کیسے کروں میں انکی گواہی پہ انحصار حددرجہ معتبر ہیں مگر لوگ ہی تو ہیں کومل جوئیہ
11 days ago
0
4
1
حساسیت بڑھتی گئی ہر سانحے کے بعد ہم اس کے لیے بھی روئے جسے جانتے نہ تھے! شجاتا عرشمان
11 days ago
0
3
1
ایک مُدت ہوئی لیلائے وطن سے بچھڑے اب بھی رِستے ہیں مگر زخم پُرانے میرے احمد فراز
11 days ago
0
3
1
اس نے کہا عدیمؔ میرا ہاتھ تھامنا چاروں طرف سے ہاتھ نمودار ہو گئے! عدیمؔ ہاشمی
11 days ago
1
2
0
ہم نے ہی لَوٹنے کا ارادہ نہیں کیا اس نے بھی بھول جانے کا وعدہ نہیں کیا پروین شاکر
12 days ago
0
5
4
خوابوں کا اک ہجوم تھا آنکھوں کے آس پاس مشکل سے اپنے خواب کا چہرہ الگ کیا احمد رضوان
13 days ago
0
2
0
یوں تو وہ شکل کھو گئی گردشِ ماہ و سال میں پھول ہے اک کِھلا ہوا حاشیہ خیال میں خورشید رضوی
14 days ago
0
2
0
اب جس طرف سے چاہے گزر جائے کارواں ویرانیاں تو سب مرے دل میں اتر گئیں کیفی اعظمی
14 days ago
0
3
0
پھر دیکھنا میں زخم بناتا ہوں کس طرح تُو بس مرے بدن پہ کہیں اک خراش چھوڑ مژدم خان
14 days ago
1
3
1
جب سے اُس شخص نے زندان سنبھالا آ کر اتنے قیدی ہیں کہ پنجرے نہیں پورے ہوتے خرم آفاق
14 days ago
0
6
2
میں نے چاہا تھا زخم بھر جائیں زخم ہی زخم بھر گئے مجھ میں عمار اقبال
15 days ago
0
1
0
قربت بھی نہیں دل سے اتر بھی نہیں جاتا وہ شخص کوئی فیصلہ کر بھی نہیں جاتا احمد فرازؔ
15 days ago
0
1
0
میں خود کو تجھ سے مٹاؤں گا احتیاط کے ساتھ تو بس نشان لگا دے جہاں جہاں ہوں میں عمیر نجمی
15 days ago
0
1
0
Load more
feeds!
log in